Posts Mentioning RSS Toggle Comment Threads | Keyboard Shortcuts

  • asadmehmoodstar 7:10 am on June 27, 2009 Permalink | Reply
    Tags: , prophet   

    حقیقت میلاد النبی – ساتواں حصہ 

    جملہ مناسکِ حج اَنبیاء علیہم السلام کی یادگار ہیں:-

    حج کو شہادت اور نماز کے بعد تیسرے رُکنِ اِسلام کا درجہ حاصل ہے۔ فریضہ حج کی بنیاد اور تمام مناسکِ حج درحقیقت حضرت ابراہیم، حضرت اسمٰعیل اور حضرت ہاجرہ علیہم السلام کی زندگی کے عظیم واقعات سے عبارت ہیں۔ انہوں نے صبر و استقامت، اطاعت اور قربانی کے جو نقوش چھوڑے رب کریم نے ان کی یاد منانے کو اُمتِ مسلمہ کے لیے فرض عبادت قرار دے دیا۔ دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں مسلمان ہر سال مکہ مکرمہ جا کر ان کی یاد مناتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس فریضہ سے سرخرو ہوتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کے محبوب بندوں نے جو لمحات اپنے معبودِ حقیقی کی محبت و اطاعت اور سوزِ عشق میں گزارے اﷲ نے انہیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا۔ وہ قدم جو اس کی یاد میں اٹھے، دوڑے اور تڑپے، اﷲ نے انہیں اپنی نشانیاں قرار دے دیا۔

    اللہ کے گھر میں داخل ہوتے ہی آنکھیں برسات کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں، آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ہے اور جذبہ عشق و مستی کی تسکین کا سامان ہونے لگتا ہے۔ خانہ خدا میں قدم رکھتے ہی بندگانِ خدا کعبۃ اﷲ کا طواف شروع کر دیتے ہیں اور حجرِ اَسود کی طرف دیوانہ وار لپکتے ہیں اور دھکم پیل کے باوجود بڑی محنت و جاں فشانی سے اس کے قریب پہنچتے اور اسے بوسہ دیتے ہیں اور پھر صفا و مروہ کی سعی کرتے ہیں۔ نویں ذی الحج آتی ہے تو ہر حاجی بے اختیار میدانِ عرفات کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتا ہے۔ مزدلفہ میں مغرب کے وقت وہ نماز نہیں پڑھتا بلکہ اسے عشاء کی نماز کے ساتھ ملا کر پڑھتا ہے پھر منٰی پہنچ کر رمی کرتا ہے اور قربانی کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔

    ان تمام اُمور کی کوئی عقلی توجیہ ممکن نہیں۔ سارے معاملات عشق و جنوں کے آئینہ دار ہیں۔ عقل سے لاکھ پوچھا جائے کہ ان سب معمولات کی حقیقت کیا ہے مگر اسے کسی سوال کا تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔ جب یہی سوال عشق سے پوچھا جاتا ہے تو جواب آتا ہے کہ حج کے ہر عمل کے پیچھے محبت و وارفتگی کی کوئی نہ کوئی ادا چھپی ہوئی ہے۔ اپنے محبوب بندوں کی اداؤں کو اﷲ سبحانہ تعالیٰ نے اتنا پسند فرمایا کہ انہیں قیامت تک فرض عبادت کا درجہ دے دیا۔ باری تعالیٰ کو ان کی نسبتیں اتنی عزیز ہیں کہ انہی کے رنگ ڈھنگ اور انداز و اطوار کو اپنا لینا عین عبادت قرار پایا۔ حج انہی افعال و اعمال کے دہرائے جانے سے عبارت ہے جن سے اﷲ کے مقبول بندوں کی کوئی نہ کوئی یاد وابستہ ہے۔

    حج اُن فرض عبادات میں سے ہے جس کے جملہ مناسک دراصل رب کریم کے برگزیدہ انبیاء کی محبوب عبادات، اداؤں اور معمولات کی یاد منانے پر مشتمل ہیں۔ مناسکِ حج سراسر یاد منانا ہے۔ اللہ کے ایک محبوب بندے نے کوئی عمل کیا اور ایسی کیفیت میں ڈوب کر کیا کہ اللہ رب العزت نے اس کی توقیر کرتے ہوئے اپنے سب سے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لیے اسے فرض عبادت کا درجہ دے دیا۔ ان افعال کو جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام سے منسوب ہیں، مناسک حج کا حصہ بنا دیا گیا اور ان کا بجا لانا ہم پر لازم ہے۔ 8 ذی الحج سے 13 ذی الحجہ تک ادا کیے جانے والے ان مناسک کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے :

    1۔ اِحرام انبیاء کرام علیھم السّلام کے لباسِ حج کی یادگار ہے:-

    مناسک و آدابِ حج و عمرہ کی ادائیگی کے حوالے سے ایک قابل ذکر عمل احرام باندھنا ہے جو تمام طواف کرنے والوں کے لیے لازم ہے۔ دو چادروں پر مشتمل یہ وہی لباس ہے جسے دورانِ حج انبیاء کرام علیھم السلام زیب تن فرماتے رہے۔ اﷲ تعالیٰ کو یہ بہت پسند آیا، اور حجاج کے لیے لازم قرار پایا کہ وہ اپنے علاقائی رواج کے مطابق سلا ہوا لباس اتار پھینکیں اور فقط دو چادریں اوڑھ لیں۔ ان میں سے ایک چادر بطور تہبند استعمال کی جاتی ہے جب کہ دوسری سے جسم ڈھانپا جاتا ہے۔ دنیا کے مختلف کونوں سے آئے ہوئے عازمینِ حج احرام کی چادروں سے جسم ڈھانپ کر سنتِ انبیاء علیہم السلام کی اتباع میں ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ لباس ستر (70) انبیاء نے اپنے اپنے زمانہ میں زیب تن کیا، اس کی تصریح درج ذیل روایات سے ہوتی ہے :

    1۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    لقد مرّ بالصخرة من الروحاء سبعون نبياً، منهم موسي نبي اﷲ، حفاة، عليهم العباء، يؤمون بيت اﷲ العتيق.

    ’’اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سمیت 70 انبیاء (مکہ اور مدینہ کے درمیان) روحاء کی پتھریلی جگہ سے ننگے پاؤں گزرے ہیں، وہ ایک چادر زیب تن کیے ہوئے بیت اللہ جا رہے تھے۔‘‘

    1. أبو يعلي، المسند، 13 : 201، 255، رقم : 7231، 7271

    2۔ ابو یعلٰی نے ’’المسند (7 : 262، رقم : 4275)‘‘ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی روایت نقل کی ہے۔

    3. ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 3 : 433، رقم : 5328
    4. أبو نعيم، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 1 : 260

    5۔ منذری نے ’’الترغیب والترہیب من الحدیث الشریف (2 : 118، رقم : 1739)‘‘ میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سند پر کوئی اِعتراض نہیں۔

    6. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 61 : 166
    7. هيثمي، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 3 : 220

    2۔ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اِحرام بیان کرتے ہوئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    کأني أنظر إلي موسي بن عمران في هذا الوادي محرماً بين قَطَوانيتين.

    ’’میں نے اس وادی میں موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دو قطوانی (کوفہ کے علاقہ قطوان سے منسوب سفید) چادروں پر مشتمل اِحرام پہنے دیکھا ہے۔‘‘

    1. أبو يعلي، المسند، 9 : 27، رقم : 5093
    2. طبراني، المعجم الکبير، 10 : 142، رقم : 10255
    3. طبراني، المعجم الأوسط، 6 : 308، رقم : 6487
    4. أبو نعيم، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 4 : 189

    5۔ منذری نے ’’الترغیب والترہیب من الحدیث الشریف (2 : 118، رقم : 1740)‘‘ میں کہا ہے کہ اِسے ابو یعلٰی اور طبرانی نے حسن اِسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
    6۔ ہیثمی نے ’’مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (3 : 221)‘‘ میں کہا ہے کہ یہ روایت ابو یعلٰی اور طبرانی نے بیان کی ہے اور اس کی اسناد حسن ہے۔

    3۔ حج کے موقع پر انبیاء کرام کے چادریں اوڑھنے کے اس طریقہ کو حضرت عبد اﷲ بن عباس اور حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنھم کے ہونہار شاگرد مجاہد بن جبیر مکی نے درج ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حج کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

    حج موسي النبي عليه السلام علي جمل أحمر، فمرّ بالروحاء، عليه عباء تان قطوانيتان، متزر بإحداهما مرتدي بالأخري، فطاف بالبيت.

    ’’اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام حج کے اِرادہ سے سرخ اونٹ پر روانہ ہوئے، وہ روحاء کے مقام سے گزرے۔ ان کے اوپر دو قطوانی (سفید) چادریں تھیں جن میں سے ایک انہوں نے تہبند کے طور پر باندھی ہوئی تھی اور دوسری جسم پر اوڑھ رکھی تھی۔ پس انہوں نے (اسی حالت میں) بیت اللہ کا طواف کیا۔‘‘

    أزرقي، أخبار مکة وما جاء فيها من الآثار، 1 : 67

    4۔ ایک روایت میں حضرت ہود اور صالح علیہما السلام کا لباس بھی بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سفرِ حج کے دوران حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی عسفان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِستفسار فرمایا : ابو بکر! یہ کون سی وادی ہے؟ انہوں نے عرض کیا : وادئ عسفان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    لقد مر به هود وصالح علي بَکَراتٍ حُمْرٍ خُطُمُها اللِّيْفُ، أُزُرُهم العباء، وأردِيَتُهُم النِّمارُ، يُلَبّون يَحُجُّون البيتَ العتيقَ.

    ’’یہاں سے ہود اور صالح (علیہما السلام) جوان سرخ اونٹنیوں پر گزرے ہیں جن کی مہاریں کھجور کی چھال کی تھیں۔ انہوں نے تہبند سے ستر ڈھانپے ہوئے تھے اور سفید و سیاہ دھاری دار چادریں اوڑھی ہوئی تھیں۔ وہ تلبیہ کہتے ہوئے بیت اللہ کا حج کرنے جا رہے تھے۔‘‘

    1. أحمد بن حنبل، المسند، 1 : 232

    2۔ بیہقی کی ’’شعب الایمان (3 : 440، رقم : 4003)‘‘ میں بیان کردہ روایت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھی ذکر ہے۔

    3. منذري، الترغيب والترهيب من الحديث الشريف، 2 : 117، رقم : 1737

    مذکورہ بالاروایات سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم السلام سادہ چادریں اوڑھے حج ادا کرتے۔ وہ حج کی ادائیگی میں فقط رضائے الٰہی پیشِ نظر رکھتے۔ ان کا لباسِ حج دو چادروں پر مشتمل ہوتا : ایک بطور تہبند باندھ لیتے اور دوسری جسم پر اوڑھ لیتے۔

    اَنبیاء کرام علیہم السلام کا یہ لباس حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اتنا پسند آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لباس کو قیامت تک آنے والے حاجیوں کے لیے لازم قرار دے دیا۔ عام زندگی کے لباس میں باقی جتنے مشمولات اور لوازمات ہوتے ہیں ان سب کو حج کے دوران پہننے سے منع فرما دیا۔ عام حالات میں ننگے سر عبادت کرنا معیوب اور خلافِ سنت تصور کیا جاتا ہے مگر دورانِ حج و عمرہ بیت اﷲ میں ایسا نہیں۔ حالتِ اِحرام میں بیت اللہ میں سب ننگے سر حاضر ہوتے ہیں۔ وہاں سر کا ننگا ہونا اَنبیاء کرام کے لباسِ حج و عمرہ کی نسبت کے سبب عجز و خاک ساری اور فروتنی کی علامت بن گیا ہے اور اللہ رب العزت کے نزدیک غایت درجہ پسندیدہ ہے۔

    یہ انبیاء کرام علیہمم السلام کی نسبت اور تعلق ہی کی وجہ ہی ہے کہ اِحرام متعین ہونے کے ساتھ حج کے دوران حاجیوں کو ناخن تراشنے، بال کٹوانے اور مونچھیں کٹوانے جیسے اعمال سے بھی روک دیا گیا (1) تاکہ ظاہری طور پر بھی ہر لحاظ سے حجاج کرام انبیاء علیہم السلام کی پیروی کریں۔

    کاساني، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، 2 : 198

    جاری ہے۔۔۔

     
  • asadmehmoodstar 7:30 am on June 26, 2009 Permalink | Reply
    Tags: Islamabad,   

    ISI Pakistan Inter-Services Intelligence 

    ISI is one of the best and very well organized intelligence agency in the world. It was founded in 1948. In 1950 it was officially given the task to safe guard Pakistani interests and national security inside and outside the country.Its primery objectives are not only to safeguard Pakistani interests, but also, reinforcing Pakistan’s power base in the region.

    The ISI is tasked with collection of of foreign and domestic intelligence; co-ordination of intelligence functions of the three military services; surveillance over its cadre, foreigners, the media, politically active segments of Pakistani society, diplomats of other countries accredited to Pakistan and Pakistani diplomats serving outside the country; the interception and monitoring of communications; and the conduct of covert offensive and wartime operations. Functions of the ISI include gathering foreign and domestic intelligence and synchronizing the intelligence of the military services. The agency maintains surveillance of foreign diplomats in Pakistan, Pakistani diplomats abroad, and politically active members of Pakistani society. It monitors its own staff, the media and foreigners. It tracks and intercepts communications and engages in covert offensive operations.

    ISI is headquartered in Islamabad and works under a Director General, a serving Lieutenant General of the Pakistan Army. There are three Deputy Director Generals-designated DDG (Political), DDG (External) and DDG (General). The ISI is staffed mainly by personnel deputed from the police, para-military forces and some specialized units of the Army. There are over 25,000 active men on its staff. This figure does not include informants and assets. It is organized into six to eight divisions .

     
  • asadmehmoodstar 12:41 pm on June 25, 2009 Permalink | Reply
    Tags: , , , , , , , , , , ,   

    h1 T20 Celebrations: Photos & Videos 

    Islamabad – Final runs celebrations with Massive Crowd

    UK SOUTH HALL LONDON Celebrations Video – When Pak beat South Africa in Semis

    (Part1)

     
  • asadmehmoodstar 10:47 am on June 25, 2009 Permalink | Reply
    Tags: 20 20, , , Imran Khan, Mushahid Hussain, , , , PMLQ, PTI, , , , , , ,   

    T20 win a testimony to our character! 

    We have compiled a list of messages for our readers from prominent personalities such as Zaid Hamid, Mushahid Hussain, and Imran Khan with more to be added later today. We’ll start off with our own message to all Pakistanis on this wonderful occasion:

    World Cup

    World Cup

    A warning to the doom merchants – Pakistan will not bow down.

    For decades they’ve talked about how Pakistan is on the verge of collapse, a failed state, better off chopped into four smaller countries. Ever since the nation’s birth our enemies have steadfastly worked overtime to reverse the miracle of Pakistan.

    Pakistanis are arguably among the most resilient people in the history of this earth. No other nation can soak up as much pressures that Pakistan has in recent years.

    We’ve fought wars, brought superpowers down on our doorstep, faced internal strife and terrorist attacks, faced monumental refugee crisis, earthquakes, floods, and have been labelled terrorists. However, each time we’ve dusted ourselves off and moved on with a solid determination and the steely resolve that makes us ‘Pakistanis’.

    It is therefore no surprise that despite being deprived of top level international cricket for more than 15 months, being isolated internationally and reeling under the most harrowing incident of the game, fighting a war inside our borders and looking after three million of our brothers and sisters made homeless due to conflict, we have managed come out on top of the world in yesterday’s T20 final.

    This is who we are.

    This is what we do.

    The next time someone tells you Pakistan’s about to fall to the Taliban or end up carved into four pieces, you can tell them to zip it. There is no power on earth that can undo Pakistan. It has come to stay.

    Don’t let them distract you, for we have a wonderful destiny to achieve, and a dream called ‘Pakistan’ to fulfill with 17 crore wickets in hand.

    Messages from Zaid Hamid, Senator Mushahid Hussain Syed and Imran Khan are below:

    Zaid Hamid:
    It is a stunning testimony to the national will and resilience that, despite all the wars and unrest in the country, the national team was able to fight its way through to the top and win the world cup sparking national jubilation. A moment which gelled the nation and brought smiles on the faces of even the displaced people from war zones. In cricket at least, Pakistan rule the world!! انشاءاللہ soon, in all spheres of life, Pakistan shall rise and shine!

    Mushahid Hussain Syed (Exclusive to PKKH):
    It was Pakistan at its best – resilience, teamwork with homework, with a killer instinct under leadership determined to win. As The Times of India’s Avijit Ghosh put it, Younis Khan’s ‘karo ya maro’ (do-or-die) approach ensured that he and his men ‘gave Pakistan plenty to be proud of’. Never was such a victory so badly needed as the one yesterday.

    While it shows Pakistan cricket’s bounce back from a period of decline, on a broader plane, this demonstrates the characteristic Pakistani spirit to fight back and to deliver despite odds. And it is perhaps apt, three of the heroes are from the area fighting extremism & terrorism – the captain Younis Khan,Shahid Afridi & Umar Gul.

    Whether it’s Lord’s or Swat, we have the determination to lick the problem & win!
    It is this can-do confidence that will, Inshallah, steer the country away from crises, and ensure a better tomorrow for our people.

    Every Pakistani felt proud holding high the fluttering crescent & star.

    Pakistan Zindabad. (ps: the doomsday wallahs better rest in peace!)

    Imran Khan

     
  • asadmehmoodstar 3:49 pm on June 23, 2009 Permalink | Reply
    Tags: , , , , , , , , , , ,   

    PAKISTAN WINS CRICKET WORLD CUP 2009 ICC WORLD T20 ENGLAND 09 

     
c
compose new post
j
next post/next comment
k
previous post/previous comment
r
reply
e
edit
o
show/hide comments
t
go to top
l
go to login
h
show/hide help
esc
cancel