Posts Mentioning RSS Toggle Comment Threads | Keyboard Shortcuts

  • asadmehmoodstar 7:13 am on June 27, 2009 Permalink | Reply
    Tags: ,   

    حقیقت میلاد النبی – حصہ دوم 

    اس کائناتِ انسانی پر اﷲ رب العزت نے بے حد و حساب احسانات و انعامات فرمائے۔ انسان پر بے پایاں نوازشات اور مہربانیاں کیں اور یہ سلسلہ ابد الاباد تک جاری و ساری رہے گا۔ ذاتِ باری تعالیٰ نے ہمیں لاتعداد نعمتوں سے نوازا جن میں سے ہر نعمت دوسری سے بڑھ کر ہے لیکن اس نے کبھی کسی نعمت پر احسان نہیں جتلایا۔ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں لذت و توانائی سے بھرپور طرح طرح کے کھانے عطا کیے مگر اس کا کوئی احسان نہیں جتلایا، پینے کے لیے خوش ذائقہ مختلف مشروبات دیے، دن رات کا ایک ایسا نظام الاوقات دیا جو سکون و آرام فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری ضروریاتِ زندگی کی کفالت کرتا ہے، سمندروں، پہاڑوں اور خلائے بسیط کو ہمارے لیے مسخر کر دیا، ہمیں اشرف المخلوقات بنایا اور ہمارے سر پر بزرگی و عظمت کا تاج رکھا، والدین، بہن، بھائی اور اولاد جیسی نعمتوں کی اَرزانی فرمائی، عالمِ اَنفس و آفاق کو اپنی ایسی عطاؤں اور نوازشوں سے فیض یاب کیا کہ ہم ان کا ادراک کرنے سے بھی قاصر ہیں لیکن ان سب کے باوجود اس نے بطور خاص ایک بھی نعمت کا احسان نہیں جتلایا کہ وہ رب العالمین ہونے کے اعتبار سے بلاتمیز مومن و کافر سب پر یکساں شفیق ہے اور اس کا دامنِ عاطفت ہر ایک کو اپنے سایہ رحمت میں رکھے ہوئے ہے۔ لیکن ایک نعمت ایسی تھی کہ خدائے بزرگ و برتر نے جب اسے اپنے حریمِ کبریائی سے نوعِ اِنسانی کی طرف بھیجا تو پوری کائناتِ نعمت میں صرف اس پر اپنا اِحسان جتلایا اور اس کا اظہار بھی عام پیرائے میں نہیں کیا بلکہ اہلِ ایمان کو اس کا احساس دلایا۔ مومنین سے روئے خطاب کر کے ارشاد فرمایا :

    لَقَدْ مَنَّ اﷲُ عَلَی الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ.

    القرآن، آل عمران، 3 : 164

    ’’بے شک اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ اُن میں اُنہی میں سے عظمت والا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھیجا۔‘‘

    اِسلام میں اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کی نعمتوں اور اُس کے فضل و کرم پر شکر بجا لانا تقاضائے عبودیت و بندگی ہے، لیکن قرآن نے ایک مقام پر اس کی جو حکمت بیان فرمائی ہے وہ خاصی معنی خیز ہے۔ ارشاد فرمایا :

    لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌo

    إبراهيم، 14 : 7

    ’’اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم پر (نعمتوں میں) ضرور اِضافہ کروں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب یقیناً سخت ہےo‘‘

    اِس آیتہ کریمہ کی رُو سے نعمتوں پر شکر بجا لانا مزید نعمتوں کے حصول کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ پھر نعمتوں پر شکرانہ صرف اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہی واجب نہیں بلکہ اُمم سابقہ کو بھی اس کا حکم دیا جاتا رہا۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 47 میں بنی اسرائیل کو وہ نعمت یاد دلائی گئی جس کی بدولت انہیں عالم پر فضیلت حاصل ہوگئی اور پھر اس قوم کو فرعونی دور میں ان پر ٹوٹنے والے ہول ناک عذاب کی طرف متوجہ کیا گیا جس سے رہائی ان کے لیے ایک عظیم نعمت کی صورت میں سامنے آئی۔ اِس کے بعد فرمایا :

    وَإِذْ نَجَّيْنَاكُمْ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ.

    البقرة، 2 : 49

    ’’اور (اے آلِ یعقوب! اپنی قومی تاریخ کا وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب ہم نے تمہیں قومِ فرعون سے نجات بخشی جو تمہیں اِنتہائی سخت عذاب دیتے تھے۔‘‘

    اِس قرآنی اِرشاد کی روشنی میں غلامی و محکومی کی زندگی سے آزادی بہت بڑی نعمت ہے جس پر شکر بجا لانا آنے والی نسلوں پر واجب ہے۔ اِس سے اِستدلال کرتے ہوئے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ قومی آزادی کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی ہوئی نعمتِ غیر مترقبہ سمجھیں اور اس پر شکرانہ ادا کریں۔ مذکورہ بالا آیت کریمہ اِس اَمر پر شاہد ہے کہ نعمت کے شکرانے کے طور پر باقاعدگی کے ساتھ بالاہتمام خوشی و مسرت کا اظہار اس لیے بھی ضروری ہے کہ آئندہ نسلوں کو اِس نعمت کی قدر و قیمت اور اَہمیت سے آگاہی ہوتی رہے۔

    یوں تو اِنسان سارا سال نعمتِ اِلٰہی پر خدا کی ذات کریمہ کا شکر ادا کرتا رہتا ہے لیکن جب گردشِ اَیام سے وہ دن دوبارہ آتا ہے جس میں من حیث القوم اس پر اﷲ تعالیٰ کا کرم ہوا اور مذکورہ نعمت اس کے شریک حال ہوئی تو خوشی کی کیفیات خود بخود جشن کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

    قرآن مجید نے دیگر مقامات پر خاص خاص نعمتوں کا ذکر کر کے ان ایام کے حوالے سے انہیں یاد رکھنے کا حکم دیا ہے۔ پھر نعمتوں پر خوشی و مسرت کا اظہار کرنا سنت انبیاء علیھم السلام بھی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کے لیے نعمتِ مائدہ طلب کی تو اپنے رب کے حضور یوں عرض گزار ہوئے :

    رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ.

    القرآن، المائدة، 5 : 114

    ’’اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے خوانِ (نعمت) نازل فرما دے کہ (اس کے اترنے کا دن) ہمارے لیے عید (یعنی خوشی کا دن) ہوجائے ہمار ے اگلوں کے لیے (بھی) اور ہمارے پچھلوں کے لیے (بھی) اور (وہ خوان) تیری طرف سے (تیری قدرتِ کاملہ کی) نشانی ہو۔‘‘

    قرآن مجید نے اس آیتہ کریمہ کے ذریعے اپنے نبی کے حوالے سے اُمتِ مسلمہ کو یہ تصور دیا ہے کہ جس دن نعمتِ اِلٰہی کا نزول ہو اس دن جشن منانا شکرانہ نعمت کی مستحسن صورت ہے۔ اِس آیت سے یہ مفہوم بھی مترشح ہے کہ کسی نعمت کے حصول پر خوشی وہی مناتے ہیں جن کے دل میں اپنے نبی کی محبت جاگزیں ہوتی ہے اور وہ اِس کے اِظہار میں نبی کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔

    اﷲ تعالیٰ کی کسی نعمت پر شکر بجالانے کا ایک معروف طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان حصولِ نعمت پر خوشی کا اظہار کرنے کے ساتھ اس کا دوسروں کے سامنے ذکر بھی کرتا رہے کہ یہ بھی شکرانہ نعمت کی ایک صورت ہے اور ایسا کرنا قرآن حکیم کے اس ارشاد سے ثابت ہے:

    وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْO

    الضحی، 93 : 11

    ’’اور اپنے رب کی نعمتوں کا (خوب) تذکرہ کریںo‘‘

    اِس میں پہلے ذکرِ نعمت کا حکم ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کو دل وجان سے یاد رکھا جائے اور زبان سے اس کا ذکر کیا جائے لیکن یہ ذکر کسی اور کے لیے نہیں فقط اﷲ تعالیٰ کے لیے ہو۔ اس کے بعد تحدیثِ نعمت کا حکم دیا کہ کھلے بندوں مخلوقِ خدا کے سامنے اس کو یوں بیان کیا جائے کہ نعمت کی اَہمیت لوگوں پر عیاں ہوجائے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ ذکر کا تعلق اﷲ تعالیٰ سے اور تحدیثِ نعمت کا تعلق مخلوق سے ہے کیوں کہ اس کا زیادہ سے زیادہ لوگوں میں چرچا کیا جائے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا :

    فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُواْ لِي وَلاَ تَكْفُرُونِO

    البقرة، 2 : 152

    ’’سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور (میری نعمتوں کا) اِنکار نہ کیا کروo‘

    جاری ہے۔۔۔

     
  • asadmehmoodstar 7:11 am on June 27, 2009 Permalink | Reply
    Tags: ,   

    حقیقت میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم – حصہ اول 

    جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی تاریخی خوشی میں مسرت و شادمانی کا اظہار ہے اور یہ ایسا مبارک عمل ہے جس سے ابولہب جیسے کافر کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ اگر ابولہب جیسے کافر کو میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی میں ہر پیر کو عذاب میں تخفیف نصیب ہوسکتی ہے تو اُس مومن مسلمان کی سعادت کا کیا ٹھکانا ہوگا جس کی زندگی میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشیاں منانے میں بسر ہوتی ہو۔

    حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی اپنے یومِ ولادت کی تعظیم فرماتے اور اِس کائنات میں اپنے ظہور وجود پر سپاس گزار ہوتے ہوئے پیر کے دن روزہ رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے یوم ولادت کی تعظیم و تکریم فرماتے ہوئے تحدیثِ نعمت کا شکر بجا لانا حکم خداوندی تھا کیوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے وجودِ مسعود کے تصدق و توسل سے ہر وجود کو سعادت ملی ہے۔

    جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل مسلمانوں کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام جیسے اَہم فرائض کی رغبت دلاتا ہے اور قلب و نظر میں ذوق و شوق کی فضاء ہموار کرتا ہے۔ صلوۃ و سلام بذات خود شریعت میں بے پناہ نوازشات و برکات کا باعث ہے۔ اس لیے جمہور اُمت نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اِنعقاد مستحسن سمجھا۔

    سیرتِ طیبہ کی اَہمیت اُجاگر کرنے اور جذبہ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فروغ کے لیے محفلِ میلاد کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اِسی لیے جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فضائل، شمائل، خصائل اور معجزاتِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ اور اُسوۂ حسنہ کا بیان ہوتا ہے۔

    جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک اَہم مقصد محبت و قربِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصول و فروغ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی سے مسلمانوں کے تعلق کا اِحیاء ہے اور یہ اِحیاء منشاءِ شریعت ہے۔

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و کمالات کی معرفت ایمان باللہ اور ایمان بالرسالت میں اِضافہ کا محرک بنتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و توقیر ایمان کا پہلا بنیادی تقاضا ہے اور میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سلسلہ میں مسرت و شادمانی کا اظہار کرنا، محافلِ ذکر و نعت کا انعقاد کرنا اور کھانے کا اہتمام کرنا اللہ تعالیٰ کے حضور شکر گزاری کے سب سے نمایاں مظاہر میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے لیے مبعوث فرما کر ہمیں اپنے بے پایاں احسانات و عنایات اور نوازشات کا مستحق ٹھہرایا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس احسانِ عظیم کو جتلایا ہے۔

    جس طرح ماہِ رمضان المبارک کو اللہ رب العزت نے قرآن حکیم کی عظمت و شان کے طفیل دیگر تمام مہینوں پر امتیاز عطا فرمایا ہے اُسی طرح ماہ ربیع الاول کے اِمتیاز اور اِنفرادیت کی وجہ بھی اس میں صاحبِ قرآن کی تشریف آوری ہے۔ یہ ماہ مبارک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت کے صدقے جملہ مہینوں پر نمایاں فضیلت اور امتیاز کا حامل ہے۔ شبِ میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیلۃ القدر سے بھی افضل ہے۔ لیلۃ القدر میں نزولِ قرآن ہوا تو شبِ میلاد میں صاحبِ قرآن کی آمد ہوئی۔ لیلۃ القدر کی فضیلت اس لیے ہے کہ وہ نزولِ قرآن اور نزولِ ملائکہ کی رات ہے اور نزولِ قرآن قلبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہوا ہے۔ اگر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہوتے تو نہ قرآن ہوتا، نہ شبِ قدر ہوتی، نہ کوئی اور رات ہوتی۔ یہ ساری فضیلتیں اور عظمتیں میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقہ ہیں۔ پس شبِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شبِ قدر سے بھی افضل ہے۔ جاری ہے۔۔۔

     
  • asadmehmoodstar 7:10 am on June 27, 2009 Permalink | Reply
    Tags: , prophet   

    حقیقت میلاد النبی – ساتواں حصہ 

    جملہ مناسکِ حج اَنبیاء علیہم السلام کی یادگار ہیں:-

    حج کو شہادت اور نماز کے بعد تیسرے رُکنِ اِسلام کا درجہ حاصل ہے۔ فریضہ حج کی بنیاد اور تمام مناسکِ حج درحقیقت حضرت ابراہیم، حضرت اسمٰعیل اور حضرت ہاجرہ علیہم السلام کی زندگی کے عظیم واقعات سے عبارت ہیں۔ انہوں نے صبر و استقامت، اطاعت اور قربانی کے جو نقوش چھوڑے رب کریم نے ان کی یاد منانے کو اُمتِ مسلمہ کے لیے فرض عبادت قرار دے دیا۔ دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں مسلمان ہر سال مکہ مکرمہ جا کر ان کی یاد مناتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس فریضہ سے سرخرو ہوتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کے محبوب بندوں نے جو لمحات اپنے معبودِ حقیقی کی محبت و اطاعت اور سوزِ عشق میں گزارے اﷲ نے انہیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا۔ وہ قدم جو اس کی یاد میں اٹھے، دوڑے اور تڑپے، اﷲ نے انہیں اپنی نشانیاں قرار دے دیا۔

    اللہ کے گھر میں داخل ہوتے ہی آنکھیں برسات کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں، آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ہے اور جذبہ عشق و مستی کی تسکین کا سامان ہونے لگتا ہے۔ خانہ خدا میں قدم رکھتے ہی بندگانِ خدا کعبۃ اﷲ کا طواف شروع کر دیتے ہیں اور حجرِ اَسود کی طرف دیوانہ وار لپکتے ہیں اور دھکم پیل کے باوجود بڑی محنت و جاں فشانی سے اس کے قریب پہنچتے اور اسے بوسہ دیتے ہیں اور پھر صفا و مروہ کی سعی کرتے ہیں۔ نویں ذی الحج آتی ہے تو ہر حاجی بے اختیار میدانِ عرفات کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتا ہے۔ مزدلفہ میں مغرب کے وقت وہ نماز نہیں پڑھتا بلکہ اسے عشاء کی نماز کے ساتھ ملا کر پڑھتا ہے پھر منٰی پہنچ کر رمی کرتا ہے اور قربانی کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔

    ان تمام اُمور کی کوئی عقلی توجیہ ممکن نہیں۔ سارے معاملات عشق و جنوں کے آئینہ دار ہیں۔ عقل سے لاکھ پوچھا جائے کہ ان سب معمولات کی حقیقت کیا ہے مگر اسے کسی سوال کا تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔ جب یہی سوال عشق سے پوچھا جاتا ہے تو جواب آتا ہے کہ حج کے ہر عمل کے پیچھے محبت و وارفتگی کی کوئی نہ کوئی ادا چھپی ہوئی ہے۔ اپنے محبوب بندوں کی اداؤں کو اﷲ سبحانہ تعالیٰ نے اتنا پسند فرمایا کہ انہیں قیامت تک فرض عبادت کا درجہ دے دیا۔ باری تعالیٰ کو ان کی نسبتیں اتنی عزیز ہیں کہ انہی کے رنگ ڈھنگ اور انداز و اطوار کو اپنا لینا عین عبادت قرار پایا۔ حج انہی افعال و اعمال کے دہرائے جانے سے عبارت ہے جن سے اﷲ کے مقبول بندوں کی کوئی نہ کوئی یاد وابستہ ہے۔

    حج اُن فرض عبادات میں سے ہے جس کے جملہ مناسک دراصل رب کریم کے برگزیدہ انبیاء کی محبوب عبادات، اداؤں اور معمولات کی یاد منانے پر مشتمل ہیں۔ مناسکِ حج سراسر یاد منانا ہے۔ اللہ کے ایک محبوب بندے نے کوئی عمل کیا اور ایسی کیفیت میں ڈوب کر کیا کہ اللہ رب العزت نے اس کی توقیر کرتے ہوئے اپنے سب سے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لیے اسے فرض عبادت کا درجہ دے دیا۔ ان افعال کو جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام سے منسوب ہیں، مناسک حج کا حصہ بنا دیا گیا اور ان کا بجا لانا ہم پر لازم ہے۔ 8 ذی الحج سے 13 ذی الحجہ تک ادا کیے جانے والے ان مناسک کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے :

    1۔ اِحرام انبیاء کرام علیھم السّلام کے لباسِ حج کی یادگار ہے:-

    مناسک و آدابِ حج و عمرہ کی ادائیگی کے حوالے سے ایک قابل ذکر عمل احرام باندھنا ہے جو تمام طواف کرنے والوں کے لیے لازم ہے۔ دو چادروں پر مشتمل یہ وہی لباس ہے جسے دورانِ حج انبیاء کرام علیھم السلام زیب تن فرماتے رہے۔ اﷲ تعالیٰ کو یہ بہت پسند آیا، اور حجاج کے لیے لازم قرار پایا کہ وہ اپنے علاقائی رواج کے مطابق سلا ہوا لباس اتار پھینکیں اور فقط دو چادریں اوڑھ لیں۔ ان میں سے ایک چادر بطور تہبند استعمال کی جاتی ہے جب کہ دوسری سے جسم ڈھانپا جاتا ہے۔ دنیا کے مختلف کونوں سے آئے ہوئے عازمینِ حج احرام کی چادروں سے جسم ڈھانپ کر سنتِ انبیاء علیہم السلام کی اتباع میں ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ لباس ستر (70) انبیاء نے اپنے اپنے زمانہ میں زیب تن کیا، اس کی تصریح درج ذیل روایات سے ہوتی ہے :

    1۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    لقد مرّ بالصخرة من الروحاء سبعون نبياً، منهم موسي نبي اﷲ، حفاة، عليهم العباء، يؤمون بيت اﷲ العتيق.

    ’’اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سمیت 70 انبیاء (مکہ اور مدینہ کے درمیان) روحاء کی پتھریلی جگہ سے ننگے پاؤں گزرے ہیں، وہ ایک چادر زیب تن کیے ہوئے بیت اللہ جا رہے تھے۔‘‘

    1. أبو يعلي، المسند، 13 : 201، 255، رقم : 7231، 7271

    2۔ ابو یعلٰی نے ’’المسند (7 : 262، رقم : 4275)‘‘ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی روایت نقل کی ہے۔

    3. ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 3 : 433، رقم : 5328
    4. أبو نعيم، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 1 : 260

    5۔ منذری نے ’’الترغیب والترہیب من الحدیث الشریف (2 : 118، رقم : 1739)‘‘ میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سند پر کوئی اِعتراض نہیں۔

    6. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 61 : 166
    7. هيثمي، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 3 : 220

    2۔ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اِحرام بیان کرتے ہوئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    کأني أنظر إلي موسي بن عمران في هذا الوادي محرماً بين قَطَوانيتين.

    ’’میں نے اس وادی میں موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دو قطوانی (کوفہ کے علاقہ قطوان سے منسوب سفید) چادروں پر مشتمل اِحرام پہنے دیکھا ہے۔‘‘

    1. أبو يعلي، المسند، 9 : 27، رقم : 5093
    2. طبراني، المعجم الکبير، 10 : 142، رقم : 10255
    3. طبراني، المعجم الأوسط، 6 : 308، رقم : 6487
    4. أبو نعيم، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، 4 : 189

    5۔ منذری نے ’’الترغیب والترہیب من الحدیث الشریف (2 : 118، رقم : 1740)‘‘ میں کہا ہے کہ اِسے ابو یعلٰی اور طبرانی نے حسن اِسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
    6۔ ہیثمی نے ’’مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (3 : 221)‘‘ میں کہا ہے کہ یہ روایت ابو یعلٰی اور طبرانی نے بیان کی ہے اور اس کی اسناد حسن ہے۔

    3۔ حج کے موقع پر انبیاء کرام کے چادریں اوڑھنے کے اس طریقہ کو حضرت عبد اﷲ بن عباس اور حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنھم کے ہونہار شاگرد مجاہد بن جبیر مکی نے درج ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حج کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

    حج موسي النبي عليه السلام علي جمل أحمر، فمرّ بالروحاء، عليه عباء تان قطوانيتان، متزر بإحداهما مرتدي بالأخري، فطاف بالبيت.

    ’’اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام حج کے اِرادہ سے سرخ اونٹ پر روانہ ہوئے، وہ روحاء کے مقام سے گزرے۔ ان کے اوپر دو قطوانی (سفید) چادریں تھیں جن میں سے ایک انہوں نے تہبند کے طور پر باندھی ہوئی تھی اور دوسری جسم پر اوڑھ رکھی تھی۔ پس انہوں نے (اسی حالت میں) بیت اللہ کا طواف کیا۔‘‘

    أزرقي، أخبار مکة وما جاء فيها من الآثار، 1 : 67

    4۔ ایک روایت میں حضرت ہود اور صالح علیہما السلام کا لباس بھی بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سفرِ حج کے دوران حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی عسفان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِستفسار فرمایا : ابو بکر! یہ کون سی وادی ہے؟ انہوں نے عرض کیا : وادئ عسفان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    لقد مر به هود وصالح علي بَکَراتٍ حُمْرٍ خُطُمُها اللِّيْفُ، أُزُرُهم العباء، وأردِيَتُهُم النِّمارُ، يُلَبّون يَحُجُّون البيتَ العتيقَ.

    ’’یہاں سے ہود اور صالح (علیہما السلام) جوان سرخ اونٹنیوں پر گزرے ہیں جن کی مہاریں کھجور کی چھال کی تھیں۔ انہوں نے تہبند سے ستر ڈھانپے ہوئے تھے اور سفید و سیاہ دھاری دار چادریں اوڑھی ہوئی تھیں۔ وہ تلبیہ کہتے ہوئے بیت اللہ کا حج کرنے جا رہے تھے۔‘‘

    1. أحمد بن حنبل، المسند، 1 : 232

    2۔ بیہقی کی ’’شعب الایمان (3 : 440، رقم : 4003)‘‘ میں بیان کردہ روایت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھی ذکر ہے۔

    3. منذري، الترغيب والترهيب من الحديث الشريف، 2 : 117، رقم : 1737

    مذکورہ بالاروایات سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم السلام سادہ چادریں اوڑھے حج ادا کرتے۔ وہ حج کی ادائیگی میں فقط رضائے الٰہی پیشِ نظر رکھتے۔ ان کا لباسِ حج دو چادروں پر مشتمل ہوتا : ایک بطور تہبند باندھ لیتے اور دوسری جسم پر اوڑھ لیتے۔

    اَنبیاء کرام علیہم السلام کا یہ لباس حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اتنا پسند آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لباس کو قیامت تک آنے والے حاجیوں کے لیے لازم قرار دے دیا۔ عام زندگی کے لباس میں باقی جتنے مشمولات اور لوازمات ہوتے ہیں ان سب کو حج کے دوران پہننے سے منع فرما دیا۔ عام حالات میں ننگے سر عبادت کرنا معیوب اور خلافِ سنت تصور کیا جاتا ہے مگر دورانِ حج و عمرہ بیت اﷲ میں ایسا نہیں۔ حالتِ اِحرام میں بیت اللہ میں سب ننگے سر حاضر ہوتے ہیں۔ وہاں سر کا ننگا ہونا اَنبیاء کرام کے لباسِ حج و عمرہ کی نسبت کے سبب عجز و خاک ساری اور فروتنی کی علامت بن گیا ہے اور اللہ رب العزت کے نزدیک غایت درجہ پسندیدہ ہے۔

    یہ انبیاء کرام علیہمم السلام کی نسبت اور تعلق ہی کی وجہ ہی ہے کہ اِحرام متعین ہونے کے ساتھ حج کے دوران حاجیوں کو ناخن تراشنے، بال کٹوانے اور مونچھیں کٹوانے جیسے اعمال سے بھی روک دیا گیا (1) تاکہ ظاہری طور پر بھی ہر لحاظ سے حجاج کرام انبیاء علیہم السلام کی پیروی کریں۔

    کاساني، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، 2 : 198

    جاری ہے۔۔۔

     
  • asadmehmoodstar 7:07 am on June 27, 2009 Permalink | Reply
    Tags: ,   

    What ALLAH wants us to DO 

    Like La-Illah the method of divine instructions start usually with the words “DO NOT”. A few are the commands starting with the word “DO”. Some of these commands are appended below as a reminder.

    Respect and honour all human beings irrespective of their religion, colour, race, sex, language, status, property, birth, profession/job and so on [17/70]

    Talk straight, to the point, without any ambiguity or deception [33/70]

    Choose best words to speak and say them in the best possible way [17/53, 2/83]

    Always speak the truth. Shun words that are deceitful and ostentatious [22/30]

    Say with your mouth what is in your heart [3/167]

    Speak in a civilised manner in a language that is recognised by the society and is commonly used [4/5]

    When you voice an opinion, be just, even if it is against a relative [6/152]

    If, unintentionally, any misconduct occurs by you, then correct yourself expeditiously [3/134].

    Be moderate in thy pace [31/19]

    Walk with humility and sedateness [25/63]

    Keep your gazes lowered devoid of any lecherous leers and salacious stares [24/30-31, 40/19].

    When you hear something malicious about someone, keep a favourable view about him/her until you attain full knowledge about the matter. Consider others innocent until they are proven guilty with solid and truthful evidence [24/12-13]

    Ascertain the truth of any news, lest you smite someone in ignorance and afterwards repent of what you did [49/6]

    The believers are but a single Brotherhood. Live like members of one family, brothers and sisters unto one another [49/10].

    When you meet each other, offer good wishes and blessings for safety. One who conveys to you a message of safety and security and also when a courteous greeting is offered to you, meet it with a greeting still more courteous or (at least) of equal courtesy [4/86]

    When you enter your own home or the home of somebody else, compliment the inmates [24/61]

    Treat kindly
    -Your parents
    -Relatives
    -The orphans
    -And those who have been left alone in the society [4/36]

    Take care of
    -The needy,
    -The disabled
    -Those whose hard earned income is insufficient to meet their needs
    -And those whose businesses have stalled
    -And those who have lost their jobs. [4/36]

    Treat kindly
    -Your related neighbors, and unrelated neighbors
    -Companions by your side in public gatherings, or public transportation. [4/36]

    Be generous to the needy wayfarer, the homeless son of the street, and the one who reaches you in a destitute condition [4/36]

    Be nice to people who work under your care. [4/36]

    Cooperate with one another in good deeds and do not cooperate with others in evil and bad matters [5/2]

    You should enjoin right conduct on others but mend your own ways first. Actions speak louder than words. You must first practice good deeds yourself, then preach [2/44]

    Correct yourself and your families first [before trying to correct others] [66/6]

    Pardon gracefully if anyone among you who commits a bad deed out of ignorance, and then repents and amends [6/54, 3/134]

    Divert and sublimate your anger and potentially virulent emotions to creative energy, and become a source of tranquillity and comfort to people [3/134]

    Call people to the Way of your Lord with wisdom and beautiful exhortation. Reason with them most decently [16/125]

    Leave to themselves those who do not give any importance to the Divine code and have adopted and consider it as mere play and amusement [6/70]

    In your collective life, make rooms for others [58/11]

    When invited to dine, Go at the appointed time. Do not arrive too early to wait for the preparation of meal or linger after eating to engage in bootless babble. Such things may cause inconvenience to the host [33/53]

    Fulfil your promises and commitments [17/34]

    Keep yourself clean, pure [9/108, 4/43, 5/6]

    Dress-up in agreeable attire and adorn yourself with exquisite character from inside out [7/26]

    Seek your provision only by fair endeavour [29/17, 2/188] a) Use of things that produce beauty and elegance is lawful. None can proclaim them as unlawful. Details have already been given under the heading ‘Lawful and Unlawful’. (7:32)

    Always converse in clear, straightforward and decisive language, which contains no ambiguity: (33:70)

    Use language, which is recognised by society and commonly used. (4:5)

    Avoid all absurdities. One of the qualities of the believers has been stated as (23:3) “They avoid vain talk”. The word “Laghw” means vain as well as meaningless. In Surah Al-An’aam (6th Chapter of the Quran) it is said: (6:151) this includes all sorts of immodesties even an immodest talk __ as it arouses lewd passions.

    When you go out, do not allow your gaze to become bold and daring. This has been ordained both for men as well as womenii) Always ponder over things: see, hear, comprehend and then make decisions intellectually. For those who do not do so, it is said: (7:179)

    When you hear a good thing, act upon it; and when you hear an absurd one keep yourself away from it. (2:285)

    When you meet each other, offer good wishes and blessings for safety. Thus it is said: (4:86) “One who conveys to you a message of safety and security and also when a courteous greeting is offered to you, meet it with a greeting still more courteous or (at least) of equal courtesy.”

    When you enter your own house or the house of somebody else, compliment the inmates. (24:61)

    Extend kind and good behaviour to your parents kinsfolk, orphans, neighbours, friends, travellers and those serving under you: (4:36)

    “Co-operate with one another in good and virtuous matters consistent with the Divine Laws and do not co-operate in evil and bad matters.”(5:2)

    Observe assembly etiquettes while sitting in and leaving. (58:11)

     
c
compose new post
j
next post/next comment
k
previous post/previous comment
r
reply
e
edit
o
show/hide comments
t
go to top
l
go to login
h
show/hide help
esc
cancel