جرمنی میں سائنسدانوں نے اس قدیم ترین ساز کی تفصیلات جاری کی ہیں جس کا تعلق پینتیس ہزار سال قبل کے اس زمانے سے ہے جب جدید انسانوں نے یورپ کو نوآبادی بنانا شروع کیا تھا۔
ان سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بانسری قدیم ترین ساز ہے۔
محققین کا کہنا ہے ما قبلِ تاریخ دور میں موسیقی کا خاصا پھیلاؤ حاصل تھا۔
ان محققین کا خیال ہے کہ غالباً موسیقی ایک ایسا پہلو تھا جس سے جدید انسان کو حجری دور کے انسانوں پر امتیاز حاصل ہوا۔
ٹیوبنجن یونیورسٹی کی ٹیم نے ان تین بانسریوں کی تفصیلات شائع کی ہیں جو جنوب مغربی جرمنی کے علاقے ہولیا فیلس کے غاروں سے ملی تھیں۔
یہ غار پہلے ہی ابتدائی انسان کی موجودگی اور زندگی گزارنے کی جد وجہد کے آثار کے حوالے سے معروف ہیں۔
گزشتہ مئی میں اس ٹیم نے ہولیا فیلس سے ملنے والے حسن و محبت کی دیوی وینس کے مجسمے کے بارے میں تفصیلات جاری کی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ یہ اب تک دریافت ہونے والا وینس کا قدیم ترین مجسمہ ہے۔
اب جن بانسریوں کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں وہ گدھ کے پروں میں پائی جانے والی ہڈیوں سے بنائی گئی ہیں۔
ان میں سے ایک بانسری بیس سنٹی میٹر لمبی ہے اور اس میں تقریباً یکساں فاصلے سے پانچ سوراخ بنائے گئے ہیں جب کے اختتامی حصے کو انگریزی حرف وی کی شکل میں تراشا گیا ہے۔
دوسری دو بانسریاں ہاتھی کے دانتوں سے بنائی گئی ہیں۔ ان تین بانسریوں کی دریافت سے اس دور کی اب تک دریافت ہونے والی بانسریوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔